کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’غیر مُلکی تارکین وطن کو ہر صورت واپس بھیجا جائے گا، اور اب مُلک سے چُن چُن کر غیر قانونی غیر ملکیوں کو نکالا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان میں دہشت گردوں کو پناہ اور ایکٹو سپورٹ مل رہی ہے، جو نا صرف پاکستان بلکہ بین القوامی دُنیا کے لیے تشویش ناک ہے۔‘
بلوچستان کے راستہ افغانستان جانے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے نگران وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’غیر مُلکی تارقین وطن جنھوں نے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنائے ہیں اُن کے خلاف کارروائی جاری ہے، نادرا نے دو ہزار 700 پاسپورٹ جن میں سے اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے انھیں منسوخ کر دیے ہیں۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’نادرا نے بلوچستان میں چاغی، تافتان، دالبندین، اور کوئٹہ میں جعلی سناختی کارڈوں کو بلاک کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بنائی ہیں، اور آنے والے دنوں میں مزید جعلی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ منسوخ کر دیے جائیں گے۔‘
نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان میں دستیاب اعدادو شمار کے مطابق اڑھائی لاکھ شناختی کارڈز جعلی بنائے گئے ہیں، جن کے خلاف آئندہ دنوں میں کارروائی ہوگی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار تارکینِ وطن کو افغانستان بھیج چُکے ہیں، اور ہمارا ٹارگٹ ہے کہ ہم جنوری تک دس لاکھ غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس بھیج سکیں۔ اس وقت پاکستان میں غیر قانونی تارکینِ وطن کی کُل تعداد 17 لاکھ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ مارچ 2024 تک ان تمام غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس بھیج دیا جائے۔‘
جان اچکزئی نے مزید کہا کہ ’اگرچہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے مگر تمام ادارے خصوصاً امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار سیکورٹی اداروں کی یہ کوشش ہے کہ ان اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’بلوچستان کے راستے افغانستان جانے والے تارکین وطن میں لوگ صرف بلوچستان سے نہیں بلکہ سندھ اور پنجاب سے آنے والے بھی شامل تھے۔‘

0 Comments