سندھ کے صوبائی دارالحکومت کراچی کی مہناس روڈ پر واقع آر جے شاپنگ مال میں سنیچر کے روز آتشزدگی کے واقعے پر پولیس نے عمارت کی تعمیر کی منظوری میں مبینہ غفلت پر مقدمہ درج کیا ہے۔ ادھر میئر کراچی کے مطابق یہ پلازہ کنٹونمنٹ بورڈ کے دائرہ اختیار میں واقع ہے۔
پلازے میں آتشزدگی میں 11 ہلاکتوں کے بعد اس مقدمے میں کے الیکٹرک اور فائر بریگیڈ سمیت دیگر محکموں کو نامزد کیا گیا ہے۔
واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین میں سے کسی نے بھی اب تک پولیس کو اندراج مقدمہ کی درخواست نہیں دی تھی۔ پولیس کے مطابق متاثرین سے تفتیش کے لیے خود رابطہ قائم کیا جائے گا۔
کراچی کے تھانہ شاہراہِ فیصل میں سب انسپکٹر صدر الدین میرانی کی مدعیت میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ آگ صبح پانچ بجے لگے تھی جس نے پلازے کی چھ منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ آتشزدگی کے کئی گھنٹوں کے دوران عمارت میں موجود افراد ’لفٹ اور سیڑھیوں کی مدد سے اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے رہے تھے۔‘
درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ ’آگ سے جھلس کر کئی افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے گیارہ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کچھ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔‘
’غفلت اور لاپرواہی کے سبب قیمتی جانیں ضائع ہوئیں‘
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ’ممکنہ طور پر آگ لگنے کی وجہ شارٹ سرکٹ ہوسکتی ہے۔ عمارت میں آگ بجھانے کے آلات اور ہنگامی اخراج کا کوئی راستہ نہیں تھا۔‘
درج مقدمہ میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عمارت کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا اور ’غفلت و لاپرواہی کے سبب قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔‘
پولیس کی تفتیش میں دیکھا جائے گا کہ عمارت کا نقشہ ’کس نے پاس کیا اور فائر بریگیڈ کی کلیئرنس کس طرح دی گئی۔۔۔ کس طرح پلازے کا نقشہ پاس ہوا۔‘
اس ایف آئی آر میں شاپنگ سینٹر کا نقشہ پاس کرنے والے، ناقص مٹیریل کے باوجود این او سی جاری کرنے والے ادارے اور کے الیکٹرک کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
کراچی کی اونچی عمارتوں کے سیفٹی آڈٹ کا حکم
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس پلازے میں آتشزدگی ہوئی وہ ’کنٹونمنٹ بورڈ کے دائرہ اختیار میں واقع ہے۔‘
نگراں وزیر اعلیٰ سندھ ریٹائرڈ جسٹس مقبول باقر نے تمام کمرشل عمارتوں، عوامی مقامات اور دفاتر کے سیفٹی آڈٹ کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ آتشزدگی کے واقعات اس لیے ہو رہے ہیں کیونکہ شہر میں اس کی نگرانی کا نظام بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے۔
نگران وزیر اعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فی الفور تمام سیفٹی آڈٹ کرنے کے بعد جامع رپورٹ جمع کروائیں۔

0 Comments